23 اپریل 2026 - 14:18
ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع / ایران کا رد عمل

جنگ بندی کے آخری گھنٹوں میں، ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کے دعؤوں کے باوجود، ایران نے کوئی جواب نہیں دیا، نہ ہی امریکی ٹیم اسلام آباد آئی؛ ایران میں جنگ کے دوبارہ آغاز کے لئے تیاریاں زورں پر تھیں، مگر ابھی جنگ بندی میں کچھ گھنٹے باقی تھے کہ ٹرمپ نے ایران کی خواہش پر نہیں، مبینہ طور پر ثالث ملک کی درخواست پر! جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا۔ ایران نے اس جنگ بندی سے اتفاق یا عدم اتفاق کا اعلان نہیں کیا۔ / محاصرے اور دھمکیوں کے دوران جنگ بندی بے معنی ہے، قالیباف / جنگ کی تیاری عروج پر ہے، سپاہ پاسداران / 100٪ تیار ہیں، خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر / جنگ بندی کی یکطرفہ توسیع امریکہ کے لئے تزویراتی شکست ہے، مغرب ذرائع / امریکہ نے اپنے مختلف جنگی منظرنامے آزما لئے، لیکن اسے نمایاں طور پر جارحانہ کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مڈل ایسٹ مانیٹر۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جنگ بندی کے آخری گھنٹوں میں، ٹرمپ کی طرف سے مذاکرات کے دعؤوں کے باوجود، ایران نے کوئی جواب نہیں دیا، نہ ہی امریکی ٹیم اسلام آباد آئی؛ ایران میں جنگ کے دوبارہ آغاز کے لئے تیاریاں زورں پر تھیں، کہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا۔ ایران نے اس جنگ بندی سے اتفاق یا عدم اتفاق کا اعلان نہیں کیا / ایران کا اعلان تھا کہ جب تک خلیج فارس کا محاصر اعلانیہ طور پر ختم نہ ہو، مذاکرات کا دوسرا دور ایران کی طرف سے شروع نہیں ہوگا۔ 

تفصیل:

دو ہفتوں کی جنگ بندی کے خاتمے کے میں ابھی کچھ گھنٹے باقی تھے کہ دہشت گرد امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 'میں پاکستانی حکام کی درخواست پر ایرانی تجویز کے آنے تک جنگ بندی کی توسیع کرتا ہوں، اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ محاصرہ جاری رہے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس جنگ بندی کا کوئی سرکاری جواب نہیں دیا۔

چنانچہ، سابقہ اعلان کے مطابق، جب تک خلیج فارس کا محاصر اعلانیہ طور پر ختم نہ ہو، مذاکرات کا دوسرا دور ایران کی طرف سے شروع نہیں ہوگا؛ کیونکہ محاصرہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

اسپیکر پارلیمان اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر قالیباف نے جنگ بندی میں توسیع سے قبل لکھا: "ٹرمپ محاصرے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ذریعے ـ اپنے خیال میں ـ مذاکرات کی میز کو تسلیم اور پسپائی کی میز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، تاکہ نئی جنگ کا جواز پیش کر سکے۔

دھمکی اور محاصرے کے سائے میں مذاکرات ناقابل قبول ہیں اور ہم میدان جنگ میں نئے پتے آشکار کرنے کے لئے تیار ہیں۔"

جنگ بندی، محاصرے اور دھمکیوں کے ہوتے ہوئے، بے معنی ہے۔

نئے حملے کے لئے ایران کی تیاریاں عروج پر ہیں، جنرل موسوی

سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈيئر جنرل موسوی نے دشمن کی طرف سے جنوبی پڑوسیوں کے وسائل اور سرزمینوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: "اس صورت میں ان ممالک کو تیل کی پیداوار سے وداع کرنا پڑے گا۔"

مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بھی اعلان کیا: "امریکی صدر اور اس ملک کی جارح و دہشت گرد فوج کے کمانڈروں کی دھمکیوں کے پیش نظر، خبردار کرتے ہیں کہ ہماری طاقتور اور باصلاحیت افواج مدتوں پہلے سے 100٪ تیار ہیں اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں، تاکہ اسلامی ایران کے خلاف کسی بھی اقدام اور جارحیت کی صورت میں، فوری طور پر پہلے سے متعینہ اہداف پر زبردست حملے کریں۔"

مڈل ایسٹ مانیٹر نے امریکہ کی شکست پر زور دیا اور لکھا:  [اگر] صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کی توسیع کا اعلان [تزویراتی شکست نہ سمجھا جائے تو بھی] حتیٰ بادی النظر میں ایک ٹیکٹیکل پسپائی نظر آتا ہے۔ امریکہ نے اپنے مختلف جنگی منظرنامے آزما لئے، لیکن اسے نمایاں طور پر جارحانہ کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دشمن کو عراقی مقاومت کا شدید انتباہ

اولیاء الدم بریگیڈز نے امریکہ اور صہیونی ریاست کو خبردار کیا: "ایران پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں، مقاومت کی کاروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ انجام پائیں گی۔"

ایران پر دوبارہ حملہ ہوگا تو ہم بھی دشمن کے مفادات پر حملہ کریں گے، یمن

یمنی انقلاب کے قائد اور انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے اعلان کیا کہ ایران امت کے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے، تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس جنگ میں ایران کی حمایت کریں۔ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہؤا تو غیر جانبداری بے معنی ہے اور ہم دشمن کے مفادات کو نشانہ بنائیں کے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha